Wednesday, September 28, 2016

PART : 4 : क्रमागत उन्नति ( EVOLUTION ) نظریہ ارتقا


نظریہ ارتقا قسط۔ 4




نو ڈارونی نمونہ جسے ہم آج نظریہ ارتقا کا" اصل دھارا" سمجھتے ہیں اس بات کو زیر بحث لاتا ہے کہ زندگی دو فطرت پسندانہ میکانکی عملوں سے بتدریج گزر کر ای ہے: " فطری انتخاب" اور " عمل تغیر".

فطری انتخاب:


فطرت کا ایک عمل ، قدرتی انتخاب ڈارون سے پہلے ماہرین حیات کے علم میں تھا۔ انہوں نے اسے " ایک ایسا میکانکی عمل بتایا جو جاندار کو کسی بگاڑ اور خرابی سے گزرے بغیر غیر متبدل رکھتا ہے"۔ ڈارون وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ دعوہ کیا کہ اس میں ارتقائ قوت موجود ہے اور پھر اس نے اس اپنے مکمل نظریے کی بنیاد اسی دعوے پر اٹھائ۔ جو نام اس نے اپنی کتاب کو دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کئ فطری انتخاب تو ڈارون کے نظریے کی بنیاد تھا۔ کتاب کا نام ہے " جانداروں کا نقطہ آغاز بزریعہ فطری انتخاب"۔ 
تاہم ڈارون کے عہد سے لے کر اب تک کوئ بھی ثبوت ایسا نہیں مل سکا جس نے سامنے آ کر یہ ظاہر کیا ہو کہ فطری انتخاب جاندار چیزوں کو ارتقائ عمل سے گزارتا ہے۔ کولن پیٹرسن جو انگلستان کے میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں ایک سینئیر ماہر قدیم حیاتیات ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نامور ارتقا پسند بھی ہے اس بات پر زور دیتا ہے کہ فطری انتخاب کو کبھی بھی اس طرح تصور نہیں کیا گیا کہ یہ کوئ ایسی قوت رکھتا ہے کہ اس سے چیزیں ارتقائ عمل سے گزرنے لگتی ہوں۔ وہ لکھتا ہے:
"
آج تک کوئ بھی فطری انتخاب کے میکانکی عملوں کے زریعے جاندار پیدا نہیں کر سکا۔ نہ کوئ اس کے قریب تک بھی آیا ہے اور نو ڈارونیت میں جو حالیہ دلائل ملتے ہیں ان کا تعلق اسی سول سے ہے" (حوالہ ۱۱)
فطری انتخاب کا موقف ہے کہ وہ جاندار چیزیں جو اپنی جاۓ پیدائش کے قدرتی مزاج سے زیادہ موافقت رکھتی ہوں وہ اولاد کے زریعے زندہ رہیں گی اور جو ناموافق کوں گی وہ مٹ جائیں گی۔ مثال کے طور ہر ہرنوں کے ریوڑ میں جو کہ جنگلی جانوروں سے گھرے ہوۓ ہیں صرف وہ ہرنیں بچیں گی جو زیادہ تیز دوڑ سکتی ہیں۔ لیکن قطع نظر اس بت کے کہ یہ عمل کب تک جاری رہتا ہے یہ ان ہرنوں کو دوسرے جانور میں تبدیل نہیں کر دے گی۔ ایسی ماہیت قلبی ممکن نہیں ہو گی۔ ہرن ہمیشہ ہرن ہی رہیں گے۔ 
جب ہم ان چند مشہور واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جنہیں ارتقا پسندوں نے فطری انتخاب کی مشاہدہ میں آنے والی مثالوں کے طور پر پیش کیا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ بھی تو نہیں ہے۔

صنعتی انقلاب اور سیاہ رنگ کے پروانے:

یہ ۱۹۸۶ کی بات ہے کہ Douglas futuyma نے ایک کتاب " حیاتیات ارتقا" لکھی جسے نظریہ ارتقا کو فطری انتخاب کے زریعے نہایت واضح انداز میں سمجھانے کا ایک قابل قبول زریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس مثال میں انگلستان میں صنعتی ترقی کے آغاز کے آس پاس مانچسٹر کے قرب و جوار میں درختوں کی چھال کا رنگ کافی ہلکا تھا. اس وجہ سے سیا رنگ کے پروانوں کو جو درختوں پر بیٹھتے تھے پرندے آسانی سے دیکھ لیتے اور انہیں اپنی خوراک بنا لیتے تھے . یوں ان پروانوں کے زندہ بچ رہنے کا امکان بوہت کم رہ جاتا تھا. پچاس برس بعد فضائی آلودگی کے باعث درختوں کی چھال سیاه ہو گئی تھی اور اس مرتبہ ہلکے رنگ کے پروانے زیادہ شکار ہوئے . نتیجہ یہ نکلا کے ہلکے رنگ کے پروانوں کی تعداد کم ہو گئی جبکے سیاه رنگ کے پروانے تعداد میں زیادہ ہو گے. اس لیے موخرالذکر آسانی کے ساتھ نظر نہیں آتے تھے. ارتقا پسندوں کے ہاں اسے اپنے نظریے کے لیے ایک بڑے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے. دوسری طرف یہ ارتقا پسند تو دراصل کھڑکیوں میں سجے ہوئے سامان فروخت میں پناہ ڈھونڈتے ہیں اور کنی کتراتے ہیں جب وو یہ زاہر کرتے ہیں کے ہلکے رنگ کے پروانے کس طرح ارتقائی عمل سے گزر کر سیاہ رنگ کے پروانوں میں تبدیل ہو گے اور وو بھی اتنے کم عرصہ میں.

تاہم یہ بات بلکل واضح ہے کے اس صورتحال کو کسی بھی طور پر نظریہ ارتقا کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا. اس لیے کے فطری انتخاب کسی بھی نی چیز کو پیدا نہیں کرتا جو پہلے سے موجود نہ ہو. سیاہ رنگ کے پروانے صنعتی انقلاب سے پہلے بوہت بڑی تعداد میں موجود تھے. صرف پروانوں کی موجودہ قسم میں سے کچھ تعداد تبدیل ہوی ہو گی. نہ تو ان پروانوں کے اوصاف تبدیل ہوئے تھے نہ ان کے نامیاتی جسموں کے حصے جو ارتقائی عمل سے ان کو الگ شکل و صورت میں ڈھل جانے میں مدد دیتے. یہ بلکل مختلف جینی پروگرام ہے جس میں پرندے کے طبیاتی اوصاف کے حقائق شامل کرنے ہوں گے.
مختصر یہ کے فطری انتخاب میں وہ صلاحیت نہیں ہوتی کے جس سے ایک جاندار نامے میں ایک زدہ نامیاتی جسم کا ایک حصہ شامل کر دیا جاے ، ایک نکل دیا جاے یا نامیے کو تبدیل کر کے ایک نی جاندار شے بنا دی جآیے.یہ اس تصویر کے بلکل برعکس ہے جسے ارتقا پسند افسوں کے ذریعے بناتے ہیں. یہ سب سے "بڑا ثبوت" تھا جو ڈارون کے عہد میں پیش کیا گیا تھا، انگلستان سیاہ پروانوں کے اس " صنعتی انقلاب" میں ایک خاص کردار ادا کرنے سے زیادہ کوئی اور پیشرفت نہ کر سکا.
کیا فطری انتخاب الجھاؤ کی وضاحت کر سکتا ہے؟

ایسی کوئی بات نہیں کے فطری انتخاب نظریہ ارتقا کی مدد کرتا ہے کیونکے یہ میکانکی عمل نہ تو کسی جاندار کے جینی حقائق میں کوئی اضافہ کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے بہتر بنا سکتا ہے. نہ یہ جاندار کی قلب ماہیت کر کے اسے کسی دوسرے جاندار میں تبدیل کر سکتا ہے. مثلا یہ کے کسی ستا را مچھلی کو مچھلی میں بدل دے یا مچھلی کو مینڈک بنا دے مینڈک کو کچھوے میں یا کچھوے کو پرندے میں تبدیل کر دے.

منظم توازن کا سب سے بڑا حمایتی Gouldاس فطری انتخاب کے تعطل کو توڑنے کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے :

ڈارونیت کی روح اور جوہر اس واحد جملے میں پای جاتی ہے ، " فطری انتخاب ارتقائی تبدیلی کی تخلیقی قوت ہے ". کسی کو بھی اس سے انکار نہیں کے فطری انتخاب ناقص یا نا اہل کو ختم کرنے میں منفی کردار ادا کرے گا. ڈارونی نظریات یہ چاہتے ہیں کے یہ موزوں اور اہل کی تخلیق بھی کرے. (حوالہ ١٢)
چند مزید گمراہ کن طریقوں میں سے ایک جسے ارتقا پسند استعمال کرتے ہیں فطری انتخاب کے سلسلے میں ہے. وہ اس میں کوشش کرتے ہیں کے اس میکانکی عمل کو باشعور نمونہ ساز کے طور پر پیش کریں. تاہم فطری انتخاب میں کوئی شعور اور آگہی نہیں ہوتی. اس میں وہ ارادہ و نیت نہیں ہوتی جو یہ فیصلہ کر سکے کے کسی جاندار شے کے لیے اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے. ان کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کے فطری انتخاب حیاتیاتی نظاموں اور ان نامیاتی اجسام کی وضاحت نہیں کر سکتا جن میں " ناقابل تخفیف الجھاؤ" پایا جاتا ہے. یہ نظام اور نامیاتی اجسام بوہت سے حصوں کے تعاون سے بنتے ہیں اور وہ کسی کام کے نہیں رہتے اگر ان میں سے کوئی ایک بھی غائب ہو یا اس میں کوئی نقص ہو. مثال کے طور پر انسانی آنکھ اس وقت تک کام نہیں کرتی جب تک یہ اپنے اجزا کے ساتھ موجود نہ ہو. اس لیے وہ ارادہ یا نیت جو ان تمام حصوں یا اجزا کو یکجا کرتی ہے اس قابل ہونی چاہیے کے وو مستقبل کو پیشگی بنا لے اور اس کا مقصود براہ راست وہ فائدہ ہو جسے آخری مرحلے میں حاصل کیا جاتا ہے. چونکے فطری عمل شعور اور ارادے سے عاری ہوتا ہے اس لیے یہ اس قسم کا کوئی کام نہیں کر سکتا. یہ حقیقت نظریہ ارتقا کی بنیادیں بھی منہدم کر دیتی ہے. ڈارون بھی فکر مند تھا کہ : ' اگر یہ ثابت کیا جا سکا کے کوئی بھی زندہ نامیاتی جسم موجود ہے، جسے ممکنہ حد تک بیشمار، اوپر تلے معمولی ردوبدل کے ساتھ تشکیل نہیں کیا جا سکتا تھا، تو میرا نظریہ بلکل مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو جا یے گا." (حوالہ ١٣)
فطری انتخاب کسی جاندار شے میں سے صرف مسخ شدہ. کمزوری یا نا موزوں کا انتخاب کرتا ہے. یہ نیے جاندار پیدا نہیں کر سکتا، نہ نی جینی حقیقت کو جنم دیتا ہے اور نہ ہی نیے زندہ نامیاتی اجسام پیدا کرتا ہے. یعنی یہ ارتقائی عمل کے ذریعے کوئی شے نہیں بنا سکتا. ڈارون نے اس حقیقت کا اعتراف یہ کہ کر کیا: " فطری انتخاب اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتا جب تک موزوں تغیرات کو ظہور پذیر ہونے کا موقع نہیں ملتا" ( حوالہ ١٤). یہی وجہ ہے نو ڈارونیت کو عمل تغیر کو فطری انتخاب کے بعد بلند مقام دینا پڑا جسے "مفید اور سود مند تبدیلیوں کا سبب" قرار دیا گیا. تاہم جیسا کے ہم دیکھیں گے کے عمل تغیر صرف " مضر تبدیلیوں کا سبب" ہو سکتا ہے

بینجامن  مہر 

No comments:

Post a Comment